بھارتی میڈیا پر شائع ہونیوالی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست گجرات کے گاؤں جمود میں گزشتہ 25 برسوں سے بھارتیوں کے بجائے افریقی آباد ہیں۔
اس گاؤں میں جانے والا ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بھارت کے بجائے افریقا کے کسی گاؤں میں موجود ہےکیوں کہ اس گاؤں کی 80 فیصد آبادی نائیجیریا، گھانا اور کینیا سمیت دیگر افریقی ممالک سے روزگار کی تلاش میں ہندوستان آنے اور پھر یہی بس جانے والے افراد کی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جمود گاؤں کی حدود میں اونچے لمبے، سیاہ رنگ ونسل والے یہ افریقی اپنی مادری زبان کے بجائے ہندی میں گفتگو کرتے ہیں، یہی نہیں ان کی صبح ہوٹلوں پر چائے پینے کی عادت، منہ میں گٹکا یا پان رکھنے کی روٹین دیکھتے ہوئے یہ گمان گزرتا ہے کہ یہ افریقا کے بجائے ہندوستان کے شہری ہی ہیں۔
جمود میں مقیم افریقی نژاد باسیوں کا ذریعہ معاش چھوٹے کاروبار ہیں، یہ افریقی نژاد بھارت کے اس گاؤں میں کپڑے، الیکٹرانکس اور موبائل پارٹس فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ ڈائمنڈ پالش کا بھی کام کرتے ہیں۔


