کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ کراچی میں بھتہ خوری کے بہت کیسز رپورٹ ہوتے تھے، بھتہ خوری سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے یونٹ سی آئی اے کی کارروائیوں سے کیسز نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بھتہ خوری کے واقعات میں ترجیحی بنیاد پر کارروائی کرتی ہے، متعدد بھتہ خور مقابلوں میں مارے گئے یا پکڑے گئے۔
آئی جی سندھ نے بتایا کہ رواں برس رپورٹ ہونے والے 140 کے قریب بھتہ خوری کے واقعات میں سے آدھے سے زیادہ کیسز بھتے کے نہیں بلکہ آپسی لین دین کے تھے۔
غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ منشیات فروشوں کی ضمانت میں پولیس کے کردار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔


