72 سال پہلے بھیجا گیا پوسٹ کارڈ آخرکار واپس اسے بھیجنے والے کے پاس پہنچ گیا

نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں موجود ایک پوسٹ کارڈ اگست 2025 میں ریاست الینواس کے شہر اوٹاوا کے ڈاک خانے میں پہنچا۔

سننے میں تو یہ خاص محسوس نہیں ہوتا مگر اس کارڈ پر لگی پوسٹ مہر 17 جون 1953 کی تاریخ دکھا رہی تھی۔

ڈاک حکام کا ماننا ہے کہ ریو ایف ای بال اینڈ فیملی کے پتے پر بھیجے جانے والا یہ پوسٹ کارڈ اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں گم ہوگیا تھا اور 72 سال تک وہاں موجود رہا۔

حال ہی میں اسے دریافت کیا گیا اور پھر اسے ڈاک کے حوالے کر دیا گیا۔

مگر جب یہ پوسٹ کارڈ ملا تو یہ خاندان اس پر درج پتے پر رہائش پذیر نہیں تھا۔

مگر اوٹاوا کے پوسٹ ماسٹر مارک تھامسن نے اسے ایک جانب پھینکا نہیں۔

ان کا ماننا تھا کہ 7 دہائیوں بعد ملنے والے کارڈ کو اسے بھیجنے والے فرد یا اس کے کسی وارث تک پہنچانا ضروری ہے۔

پرعزم مارک تھامسن نے پھر اس فرد کی تلاش شروع کی۔

اس طرح یہ کہانی پھیلنے لگی اور مقامی صحافیوں نے اسے میڈیا میں چھاپ دیا اور سب ہی اسے بھیجنے والے فرد کو تلاش کرنے لگے جس کا نام محض ایلن تحریر تھا۔

ٹیری کاربون ریٹائرمنٹ کے بعد لوگوں کے شجرہ نسب کی تحقیق کو مشغلے کے طور پر اپنا چکے تھے اور دوسروں کی مدد بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے جب اس پوسٹ کارڈ کے بارے میں ایک اخبار میں پڑھا تو وہ جانتے تھے کہ انہیں کچھ کرنا ہوگا۔

وہ صحافی سے ملے اور کہا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ ایلن کو تلاش کرنے میں مدد کرسکیں۔

LaSalle کاؤنٹی کے افراد بھی اس تلاش میں شامل ہوگئے اور رضاکاروں نے پرانے اخبارات اور آرکائیوز کو کھنگالنا شروع کر دیا اور وہ اس میں ریو ایف ای بال اور ایلن کے حوالوں کو تلاش کرنے لگے۔

ایک مقامی لائبریری کو استعمال کرکے وہ ایلن کے اسرار کے حوالے سے اہم تفصیلات جاننے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ تلاش انہیں مغرب کی جانب لے گئی اور انہیں علم ہوا کہ ایلن شاید ڈاکٹر ایلن بال ہیں جو اب 88 سال کے ہوچکے ہیں اور اس وقت ریاست Idaho کے علاقے سینڈ پوائنٹ میں مقیم ہیں۔

تو اصل میں ہوا کیا تھا؟

اس کہانی کا آغاز 1953 میں اس وقت ہوا جب ایلن بال ٹرین کے ذریعے اوٹاوا سے نیویارک پہنچے۔

ان کا خاندان زیادہ امیر نہیں تھا تو ایلن نے نیویارک جانے کے لیے 2 سال تک چھوٹے موٹے کام کرکے رقم جمع کی۔

وہ نیویارک سے ایک پرواز کے ذریعے ایک رشتے دار کے گھر پیورٹو ریکو جانے کے خواہشمند تھے۔

نیویارک ائیرپورٹ جانے سے قبل وہ اس وقت تعمیر ہونے والی اقوام متحدہ کی عمارت کو دیکھنے کے لیے رکے، وہاں انہوں نے اس عمارت کی تصویر والے پوسٹ کارڈ پر 2 سینٹ کی ڈاک ٹکٹ لگائی اور اسے والدین کو بھیج دیا۔

88 سال کی عمر کے باوجود ایلن بال کو وہ سفر یاد تھا۔

مگر انہیں علم نہیں تھا کہ جو پوسٹ کارڈ انہوں نے گھر بھیجا تھا وہ کبھی ان کے والدین تک پہنچا ہی نہیں بلکہ کہیں غائب ہوگیا۔

پھر ایک دن (گزشتہ ہفتے) ایلن بال کو ایک صحافی کی جانب سے کال موصول ہوئی۔

اس صحافی نے انہیں بتایا کہ 1953 میں بھیجا گیا ان کا پوسٹ کارڈ مل گیا ہے۔

ایلن بال نے بتایا کہ ‘جب میں نے پہلی بار یہ سنا تو میں نے سوچا کہ قہقہے لگانا شروع کر دوں، کیونکہ یہ بہت ہی غیر متوقع اور عجیب تھا’۔

آخرکار جب پوسٹ کارڈ ان تک پہنچا تو اسے وہاں پہنچانے والے ڈاک کے عملے نے مسکراتے ہوئے کہا ‘معذرت، بہت زیادہ تاخیر ہوگئی’۔

اس طرح نیویارک میں 7 دہائیوں بعد ملنے والا پوسٹ کارڈ ڈھائی ہزار میل کا فاصلہ طے کرکے اسے بھیجنے والے کے پاس پہنچ گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے