سال 2025 موسمیاتی تبدیلیوں کے لحاظ سے پاکستان کیلئے تباہ کن رہا

ایک ایسا ملک جو دنیا میں کاربن کے اخراج میں معمولی حصہ رکھتا ہے، موسمیاتی تبدیلی کا بھاری بوجھ اٹھا رہا ہے۔

2025 میں پاکستان کو اسموگ، تیزی سے پگھلتےگلیشئرز ، فلیش فلڈنگ ، لینڈ سلائیڈنگ، ہیٹ ویو اور بدترین سیلاب کا سامنا رہا۔

پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے بدترین اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسموگ سے شروع ہونے والا سال 2025 مسلسل خطرناک موسم کی لپیٹ میں رہا۔ اپریل سے غیر معمولی طور پر ہیٹ ویو کا آغاز ہوا۔ بھکر ، شہید بےنظیر آباد سمیت کئی علاقوں میں پارہ 50 سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک چڑھا۔

مون سون میں بونیر میں پتھروں کا سیلاب آیا ، کئی افراد جاں بحق ہو گئے۔ شہری علاقوں میں شدید ژالہ باری ہوئی۔

جون کے اختتام سے ستمبر تک خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے میدانی اضلاع سیلاب میں ڈوبے اور ہزاروں گھر بہہ گئے۔ سڑکیں ٹوٹیں،کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور سیکڑوں خاندان کھلے آسمان تلے آگئے۔ ایک ہزار سے زائد جانیں گئیں اور 45 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔

ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت کو بدترین موسم کی وجہ سے 2 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

سال 2026 میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خطرات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ۔

ماہرین کے مطابق ملک کو بیک وقت شدید بارشوں، شدید گرمی، پانی کی قلت اور سماجی عدم استحکام جیسے چیلنجز کا سامنا رہےگا۔

موسمی سطح پر غیر معمولی بارشوں اور طویل ہیٹ ویوز کا تسلسل متوقع ہے جب کہ شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث اچانک سیلاب کے خدشات بڑھیں گے۔

ماہرین کہتے ہیں کلائمیٹ پالیسی پر بروقت عمل درآمد اور بدلتے موسموں کے ساتھ عوام کو بروقت آگہی دینا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے