گجرات اور کوٹلہ عرب علی خاں کی کہانیوں کا اردو ڈیجیٹل میگزین
ک

Kotla Magazine

ڈاکٹر صغریٰ صدف: ایک پرائمری اسکول ٹیچر سے پنجابی ادب، فنونِ لطیفہ اور ثقافت کے معتبر نام تک کا سفر - Kotla Magazine
گجرات اور کوٹلہ عرب علی خاں کی کہانیوں کا اردو ڈیجیٹل میگزین
ک

Kotla Magazine

ڈاکٹر صغریٰ صدف: ایک پرائمری اسکول ٹیچر سے پنجابی ادب، فنونِ لطیفہ اور ثقافت کے معتبر نام تک کا سفر

ضلع گجرات کے تاریخی گاؤں سرسال کی مٹی ہمیشہ سے زرخیز اور زرنگار رہی ہے۔ اسی مٹی کی آغوش سے ابھرنے والی ایک لازوال شخصیت ڈاکٹر صغریٰ صدف ہیں جنہوں نے اپنی انتھک محنت، علمی پختگی اور صوفیانہ فکری بالیدگی کے بل بوتے پر ثابت کیا کہ اگر عزم محکم ہو تو دیہی پس منظر کی بیٹی بھی ملکی و بین الاقوامی افق پر کامیابی کی نئی تاریخ رقم کر سکتی ہے۔

1. آغازِ سفر: ایک پرائمری اسکول ٹیچر کا عزم اور تعلیمی جدوجہد

ڈاکٹر صغریٰ صدف کے سفر کی شروعات کسی آسائش یا شاہانہ پلیٹ فارم سے نہیں ہوئی، بلکہ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک سادہ اسکول ٹیچر کی حیثیت سے کیا:

  • ابتدائی جدوجہد: ایک پرائمری اسکول معلمہ کے طور پر بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتے ہوئے ان کے اندر خود کچھ بڑا کرنے اور سیکھنے کی تڑپ ہمیشہ زندہ رہی۔
  • تعلیم کا مسلسل سفر: تدریس کے فرائض کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ اردو اور پنجابی ادب میں ایم اے کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔
  • پی ایچ ڈی اور صوفیانہ تحقیق: پنجاب یونیورسٹی سے انہوں نے فلسفہ و تصوف پر مبنی “میاں محمد بخشؒ کی فکری و صوفیانہ شاعری” پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جس نے ان کے علمی و فکری قد کاٹھ کو چار چاند لگا دیے۔

2. پنجابی ادب اور تخلیقی کاوشیں

ڈاکٹر صغریٰ صدف پنجابی اور اردو زبان کی ممتاز ترین شاعرہ، ناول نگار اور صاحبِ طرز افسانہ نگار ہیں۔ ان کی متعدد کتب منظرِ عام پر آ کر دادِ تحسین حاصل کر چکی ہیں جن میں “میں کیوں مانوں ہار”، “وعدہ”، “جدا ہیں چاہتیں اپنی”، “ماہے نی میں کینوں آکھاں”، “مورکھ من” اور “برہا مچ مچایا” (افسانے) شامل ہیں۔

ان کی شاعری انسان دوستی، دھرتی کی مٹی سے محبت، عورت کے وجود، اور گہرے قلبی احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔

انتخابِ کلام (مقبول غزل):

فضا میں پرندوں کی چہکار کیا تھی

کہانی سی دریا کے اُس پار کیا تھی

اچانک نکل آیا بستی میں سورج

مری آرزوؤں کی رفتار کیا تھی

جو اقرار کی سب حدیں مٹ گئیں تھیں

شبِ وصل وہ طرزِ انکار کیا تھی

منانا پڑا فتح کا جشن مجھ کو

مری جیت کیا تھی مری ہار کیا تھی

ہمیشہ مجھے ہجر میں اُس نے رکھا

نہ جانے محبت کی مہکار کیا تھی

3. فنونِ لطیفہ، میڈیا اور ثقافتی خدمات (PILAC میں سنہری دور)

ڈاکٹر صغریٰ صدف کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ “پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر” (PILAC) میں بطور ڈائریکٹر جنرل (DG) ان کی خدمات ہیں۔ اس دور کو پلاک اور پنجابی فنونِ لطیفہ کا “سنہری دور” کہا جاتا ہے:

  • پنجاب رنگ ریڈیو (FM 95): انہوں نے ‘پنجاب رنگ ریڈیو’ کو جدت دی اور لاہور کے علاوہ ملتان اور راولپنڈی میں بھی اس کے نئے اسٹیشنز کھولے۔
  • فنکار برادری کی سرپرستی: لوک فنکاروں، گائیکوں اور مصوروں کے لیے پلاک کے دروازے کھولے، جدید اسٹوڈیوز قائم کیے اور گمنام فنکاروں کو قومی شناخت دی۔
  • ٹی وی اور ریڈیو پروگرامات: پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے لیے پیش کردہ پروگرامات جیسے “من صوفی” اور “سوفی سنگ” نے صوفیائے کرام کے پیغام کو عوام کے دلوں میں جاگزیں کر دیا۔
  • تحقیقی اشاعتیں: ان کی سرپرستی میں سو سے زائد تحقیقی کتب اور بین الاقوامی پنجابی کانفرنسز کا انعقاد ممکن ہوا۔

4. سماجی جدوجہد اور خواتین کی بیداری

ایک پرائمری اسکول کی معلمہ سے ادارے کی سربراہ بننے تک ان کی زندگی سماجی جدوجہد کی مثال ہے:

  • انہوں نے دیہی علاقوں کی خواتین کو تعلیم، ہنر اور خود اعتمادی اپنانے کی ترغیب دی۔
  • انہوں نے ہر فورم پر صنفی مساوات، رواداری اور انسانی حقوق کے لیے کھل کر آواز اٹھائی۔
  • وہ آج دنیا بھر میں اہل قلم اور خصوصاً محنت کش خواتین کے لیے ایک معتبر اور توانا آواز سمجھی جاتی ہیں۔

حرفِ آخر:

ایک اسکول ٹیچر سے شروع ہونے والا یہ سفر آج پنجابی ادب، فنونِ لطیفہ اور ثقافت کا ایک مضبوط ستون بن چکا ہے۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف صرف سرسال یا گجرات ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے پنجابیوں کا مان اور فخر ہیں۔ کوٹلہ میگزین ان کی علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *