ضلع گجرات صرف اپنی زراعت اور صنعت کے لیے ہی نہیں، بلکہ اپنی صدیاں پرانی شاندار تاریخ اور ثقافتی ورثے کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ دریائے چناب اور جہلم کے درمیان واقع یہ خطہ فتح پور سکری سے لے کر مغل اور سکھ دور کی عظیم داستانوں کا امین ہے۔ آئیے آپ کو گجرات کے ان چند اہم تاریخی مقامات کی سیر کرواتے ہیں جن کی دیواریں آج بھی ماضی کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں۔
1. اکبر کا قلعہ (گجرات قلعہ)
1580ء میں مغل اعظم جلال الدین اکبر نے اس قلعے کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کی تعمیر کا مقصد سرحدی دفاع اور علاقے میں امن و امان قائم رکھنا تھا۔ قلعے کی فصیلیں اور اس کے شاہی دروازے آج بھی مغل فنِ تعمیر کا بے مثال نمونہ ہیں۔
2. شاہ دولہ کا مزار اور باؤلی
حضرت شاہ دولہ دریائیؒ گجرات کی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ آپ کا مزار مبارک نہ صرف روحانی سکون کا مرکز ہے بلکہ اس کے پاس موجود تاریخی باؤلی (پانی کا کنواں) مغل دورِ حکومت کی انجنیئرنگ کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔
3. تاریخی شاہی حمام
قلعہ گجرات کے قریب واقع شاہی حمام مغل بادشاہوں اور ان کے دائرہ اختیار میں آنے والے شاہی مہمانوں کی آسائش کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کا گرم اور ٹھنڈے پانی کا خودکار نظام اس دور کی تکنیکی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔
4. سراۓ عالمگیر کی تاریخی اہمیت
دریائے جہلم کے کنارے واقع سرائے عالمگیر کو اورنگزیب عالمگیر نے مسافروں اور شاہی فوجیوں کے قیام کے لیے آباد کیا تھا۔ یہ مقام تاریخی لحاظ سے جی ٹی روڈ (Grand Trunk Road) کا ایک انتہائی اہم پڑاؤ رہا ہے۔
5. کھاریاں اور کوٹلہ کی تاریخی بیٹھیں و حویلیاں
گجرات کی خوبصورتی صرف شہر تک محدود نہیں۔ کھاریاں، گلیا نہ اور کوٹلہ عرب علی خاں کے گرد و نواح میں صدیوں پرانی برطانوی اور سکھ دور کی حویلیاں اور بیٹھکیں موجود ہیں، جو اس خطے کے روایتی طرزِ زندگی اور فنِ تعمیر کا شاہکار ہیں۔
حرفِ آخر:
گجرات کے یہ تاریخی مقامات ہمارے اسلاف کی محنت اور ذوق کا آئینہ دار ہیں۔ کوٹلہ میگزین کی یہ کوشش ہے کہ ہم اپنے اس عظیم ورثے کو محفوظ رکھیں اور نئی نسل کو اپنی شاندار تاریخ سے جوڑے رکھیں۔