غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس کے شہر اورینبرگ سے تعلق رکھنے والا دمرتی نویانزن کسی بھی صورت حال میں وزن میں کمی ثابت کرنا چاہتا تھا لیکن انفلوئنسر اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کی یہ خواہش اسے ایک سبق آموز کہانی کے مرکزی کردار میں بدل دے گی۔
دمرتی نے اپنے وزن میں کمی کے پروگرام سے قبل بہت زیادہ مقدار میں جنک فوڈ کھا کر تقریباً 25 کلو گرام وزن بڑھانے کا پلان بنا یا، اس دوران دمرتی کئی ہفتوں تک روزانہ جنک فوڈ کے طور پر 10 ہزار کیلوریز لیتا رہا۔
انفلوئنسر کے ڈائٹ پلان میں ناشتے میں پیسٹری ،کیک، دوپہر کے کھانے میں2 پاؤنڈ مایونیز میں لت پت موموز، رات کے کھانے میں برگر، پیزا، اسنیکس میں آلو کے چپس اور دیگر ہائی کیلوریز اسنیکس شامل تھے۔
یوں ایک مہینے کے دوران دمتری کے وزن میں 13 کلوگرام کا اضافہ ہوگیا اور اس کا جسمانی وزن 105 کلوگرام تک پہنچ گیا۔
18 نومبر کو شیئر کی گئی اپنی آخری انسٹاگرام پوسٹ میں دمرتی نے چپس کھاتے ہوئے اپنے نئے سنگ میل کا اعلان کیا تھا اور ساتھ ہی فینز سے طبیعت خرابی کا ذکر بھی کیا تھا لیکن کسی کو بھی ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ اس کے بعد دمرتی کی موت ہوجائے گی۔
المناک موت سے ایک دن قبل دمرتی نےکوچنگ سیشن بھی منسوخ کردیے، دوستوں کو آگاہ کیا کہ وہ بیمار ہے اور ڈاکٹر سے ملنے کا پلان بنارہا ہے لیکن دمرتی کا یہ منصوبہ بھی ادھورا رہ گیا کیوں کہ اگلے چند گھنٹے بعد ہی نیند میں حرکت قلب بند ہوجانے کے سبب روسی انفلوئنسر کی موت واقع ہوگئی۔
دمرتی نویانزن کی موت کے حوالے سے طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ دمتری اب بھی زیادہ وزن رکھنے والے لوگوں کے مقابلے بہتر جسمانی صورتحال میں تھا لیکن کئی ہفتوں سے فولو کیا جانے والا ہائی کیلوریز ڈائٹ پلان نے ان کے اندرونی اعضا خصوصاً دل کو متاثر کیا۔
طبی ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں انسان کابلڈ شوگر لیول ، کولیسٹرول اور بلڈپریشر تیزی سے بڑھ جاتا ہے، یوں دل کواپنے افعال انجام دینے کیلئے زیادہ محنت درکار ہوتی ہے۔


