مگر اب پہلی بار ایک طیارہ ایک روٹ پر 24 گھنٹے سے زائد وقت تک پرواز کرنے کے لیے تیار ہے۔
جی ہاں واقعی چائنا ایسٹرن ائیرلائنز دنیا کی طویل ترین پرواز کو متعارف کرانے والی ہے جو 12 ہزار 427 میل کا سفر طے کرے گی۔
چین اور ارجنٹینا کے درمیان اولین پرواز 4 دسمبر کو شنگھائی کے Pudong انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے چینی وقت کے مطابق رات 2 بجے (پاکستان میں 3 دسمبر کی شب کے 11 بجے ہوں گے) روانہ ہوگی۔
کمپنی کے مطابق یہ پرواز 25 گھنٹے تک فضا میں رہے گی جس دوران وہ نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ میں 2 گھنٹے 25 منٹ کا اسٹاپ کرے گی۔
اس کے بعد وہ ارجنٹینا کے شہر بیونس آئرس کے لیے روانہ ہوگی اور وہاں کے مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 4 بج کر 30 منٹ پر پہنچے گی۔
مگر بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی، یہ پرواز جب بیونس آئرس سے رات 2 بجے روانہ ہوگی اور پھر آک لینڈ پر 2 گھنٹے رکے گی۔
مگر یہ شنگھائی چین کے مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے پہنچے گی اور پرواز کا مجموعی دورانیہ 29 گھنٹے ہوگا۔
سروس کے آغاز کے بعد چائنا ایسٹرن ائیرلائنز کی جانب سے ہر منگل اور جمعرات کو اس پرواز کو روانہ کیا جائے گا۔
اسے طویل ترین ڈائریکٹ پرواز تو کہا جاسکتا ہے مگر نان اسٹاپ پرواز نہیں۔
دنیا کی طویل ترین نان اسٹاپ پرواز کا اعزاز سنگاپور ائیرلائنز کے پاس ہے۔
اس فضائی کمپنی کے زیرتحت سنگاپور اور نیویارک کے درمیان 9537 میل طویل پرواز لگ بھگ 19 گھنٹے میں کسی جگہ رکے بغیر اپنی منزل تک پہنچتی ہے۔
چائنا ایسٹرن ائیرلائنز نے بتایا کہ یہ دنیا کا پہلا کمرشل روٹ ہے جو antipodal شہروں کو جوڑے گا۔
یعنی 2 ایسے شہر جو زمین کے متضاد کونوں پر واقع ہیں۔
اس پرواز کے لیے کمپنی کی جانب سے غیرمعمولی راستہ اختیار کیا جائے گا اور طیارہ انٹار کٹیکا کے قریب سے گزرے گا۔
کمپنی کے مطابق اس سے ہمیں مجموعی سفر کے حوالے سے کم از کم 4 گھنٹے بچانے میں مدد ملے گی۔


